The National Aeronautics and Space Administration (NASA) has teased a new and more powerful telescope that could help humanity see parts of the universe that were even invisible with the American space agency's James Webb Space Telescope. NASA is now moving ahead with another space telescope called PRIMA, designed to look at wavelengths of infrared light that are largely beyond Webb's reach. If everything goes to plan, it could launch in 2033. PRIMA, short for Probe far-Infrared Mission for Astrophysics, will study the universe in far-infrared light using a 1.8-metre telescope. That's important because some of the material astronomers want to study is cold and buried behind cosmic dust. Webb mainly observes near- and mid-infrared wavelengths. PRIMA will go farther into the infrared spectrum, giving scientists access to signals they currently can't properly study from space. One of the biggest questions involves water. Scientists want to understand how water, carbon and oxygen move through the disks of gas and dust where planets are born and ultimately how worlds like Earth get the ingredients they need. PRIMA will also look at how galaxies grew, how supermassive black holes evolved alongside them and how dust and heavy elements accumulated across billions of years. It won't replace Webb. The two telescopes are designed to look at different parts of the same universe, with PRIMA filling a gap between telescopes such as Webb and radio observatories. James Webb cost around $10 billion before launch. If PRIMA clears its remaining reviews, NASA says its project cost will be capped at $1.2 billion, excluding launch and other non-project expenses. NASA has now moved PRIMA into preliminary design and technology development. So there is still a long way to go before it reaches space. But if it launches in 2033, astronomers will finally get a look at a part of the infrared universe that even Webb can't properly see.
NASA plans new telescope to hunt for water, worlds hidden from James Webb
ناسا کی جیمز ویب سے بھی طاقتور نئی دوربین لانچ کرنے کی تیاری
امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) نے ایک نئی اور زیادہ طاقتور دوربین بنانے کا اشارہ دیا ہے جو انسانیت کو کائنات کے ایسے حصے دیکھنے میں مدد دے سکتی ہے جو امریکی خلائی ادارے کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے بھی پوشیدہ تھے۔ ناسا اب پِرِما نامی ایک اور خلائی دوربین پر پیشرفت کر رہا ہے جسے انفراریڈ روشنی کی ان لہروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو بڑی حد تک جیمز ویب کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ خلائی دوربین 2033 میں خلا میں روانہ کی جا سکتی ہے۔ پِرِما کا مخفف پروب فار انفراریڈ مشن فار ایسٹرو فزکس ہے، جو 1.8 میٹر کی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے دور دراز انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مطالعہ کرے گی۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ وہ مواد جن کا ماہرین فلکیات مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، سرد اور کائناتی گرد کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ جیمز ویب بنیادی طور پر قریب اور درمیانے درجے کی انفراریڈ لہروں کا مشاہدہ کرتی ہے جبکہ پِرِما انفراریڈ اسپیکٹرم میں مزید آگے جائے گی، جو سائنسدانوں کو ایسے سگنلز تک رسائی فراہم کرے گی جن کا وہ فی الحال خلا سے مناسب مطالعہ نہیں کر سکتے۔ سب سے بڑے سوالات میں سے ایک پانی کے وجود اور اس کی گردش سے متعلق ہے۔ سائنسدان یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پانی، کاربن اور آکسیجن ان گیس اور گرد کے ڈسکس میں کیسے حرکت کرتے ہیں جہاں سیارے جنم لیتے ہیں اور بالآخر زمین جیسی دنیاؤں کو ان کے مطلوبہ اجزاء کیسے ملتے ہیں۔ پِرِما اس بات کا بھی جائزہ لی گی کہ کہکشائیں کیسے بڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ انتہائی بڑے بلیک ہولز کیسے ارتقا پذیر ہوئے اور اربوں سالوں میں گرد اور بھاری عناصر کیسے جمع ہوئے۔ یہ نئی دوربین جیمز ویب کی جگہ نہیں لے گی کیونکہ دونوں دوربینوں کو ایک ہی کائنات کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پِرِما جیمز ویب جیسی دوربینوں اور ریڈیو آبزرویٹریز کے درمیان خالی جگہ کو پر کرے گی تاکہ کائنات کے اسرار کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ لانچنگ سے پہلے جیمز ویب پر تقریبا 10 ارب ڈالر لاگت آئی تھی جبکہ ناسا کا کہنا ہے کہ اگر پِرِما اپنے باقی ماندہ جائزے کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے تو اس کے منصوبے کی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک محدود رکھی جائے گی، جس میں لانچنگ اور دیگر غیر پراجیکٹ اخراجات شامل نہیں ہیں۔ ناسا نے اب پِرِما کو ابتدائی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ خلا میں پہنچنے سے پہلے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ تاہم اگر یہ 2033 میں لانچ ہو جاتی ہے تو ماہرین فلکیات بالآخر انفراریڈ کائنات کے ایک ایسے حصے کا مشاہدہ کر سکیں گے جسے جیمز ویب بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتی۔
NASA plans new telescope to hunt for water, worlds hidden from James Webb
The National Aeronautics and Space Administration (NASA) has teased a new and more powerful telescope that could help humanity see parts of the universe that were even invisible with the American space agency's James Webb Space Telescope. NASA is now moving ahead with another space telescope called PRIMA, designed to look at wavelengths of infrared light that are largely beyond Webb's reach. If everything goes to plan, it could launch in 2033. PRIMA, short for Probe far-Infrared Mission for Astrophysics, will study the universe in far-infrared light using a 1.8-metre telescope. That's important because some of the material astronomers want to study is cold and buried behind cosmic dust. Webb mainly observes near- and mid-infrared wavelengths. PRIMA will go farther into the infrared spectrum, giving scientists access to signals they currently can't properly study from space. One of the biggest questions involves water. Scientists want to understand how water, carbon and oxygen move through the disks of gas and dust where planets are born and ultimately how worlds like Earth get the ingredients they need. PRIMA will also look at how galaxies grew, how supermassive black holes evolved alongside them and how dust and heavy elements accumulated across billions of years. It won't replace Webb. The two telescopes are designed to look at different parts of the same universe, with PRIMA filling a gap between telescopes such as Webb and radio observatories. James Webb cost around $10 billion before launch. If PRIMA clears its remaining reviews, NASA says its project cost will be capped at $1.2 billion, excluding launch and other non-project expenses. NASA has now moved PRIMA into preliminary design and technology development. So there is still a long way to go before it reaches space. But if it launches in 2033, astronomers will finally get a look at a part of the infrared universe that even Webb can't properly see.
ناسا کی جیمز ویب سے بھی طاقتور نئی دوربین لانچ کرنے کی تیاری
امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) نے ایک نئی اور زیادہ طاقتور دوربین بنانے کا اشارہ دیا ہے جو انسانیت کو کائنات کے ایسے حصے دیکھنے میں مدد دے سکتی ہے جو امریکی خلائی ادارے کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے بھی پوشیدہ تھے۔ ناسا اب پِرِما نامی ایک اور خلائی دوربین پر پیشرفت کر رہا ہے جسے انفراریڈ روشنی کی ان لہروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو بڑی حد تک جیمز ویب کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ خلائی دوربین 2033 میں خلا میں روانہ کی جا سکتی ہے۔ پِرِما کا مخفف پروب فار انفراریڈ مشن فار ایسٹرو فزکس ہے، جو 1.8 میٹر کی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے دور دراز انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مطالعہ کرے گی۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ وہ مواد جن کا ماہرین فلکیات مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، سرد اور کائناتی گرد کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ جیمز ویب بنیادی طور پر قریب اور درمیانے درجے کی انفراریڈ لہروں کا مشاہدہ کرتی ہے جبکہ پِرِما انفراریڈ اسپیکٹرم میں مزید آگے جائے گی، جو سائنسدانوں کو ایسے سگنلز تک رسائی فراہم کرے گی جن کا وہ فی الحال خلا سے مناسب مطالعہ نہیں کر سکتے۔ سب سے بڑے سوالات میں سے ایک پانی کے وجود اور اس کی گردش سے متعلق ہے۔ سائنسدان یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پانی، کاربن اور آکسیجن ان گیس اور گرد کے ڈسکس میں کیسے حرکت کرتے ہیں جہاں سیارے جنم لیتے ہیں اور بالآخر زمین جیسی دنیاؤں کو ان کے مطلوبہ اجزاء کیسے ملتے ہیں۔ پِرِما اس بات کا بھی جائزہ لی گی کہ کہکشائیں کیسے بڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ انتہائی بڑے بلیک ہولز کیسے ارتقا پذیر ہوئے اور اربوں سالوں میں گرد اور بھاری عناصر کیسے جمع ہوئے۔ یہ نئی دوربین جیمز ویب کی جگہ نہیں لے گی کیونکہ دونوں دوربینوں کو ایک ہی کائنات کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پِرِما جیمز ویب جیسی دوربینوں اور ریڈیو آبزرویٹریز کے درمیان خالی جگہ کو پر کرے گی تاکہ کائنات کے اسرار کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ لانچنگ سے پہلے جیمز ویب پر تقریبا 10 ارب ڈالر لاگت آئی تھی جبکہ ناسا کا کہنا ہے کہ اگر پِرِما اپنے باقی ماندہ جائزے کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے تو اس کے منصوبے کی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک محدود رکھی جائے گی، جس میں لانچنگ اور دیگر غیر پراجیکٹ اخراجات شامل نہیں ہیں۔ ناسا نے اب پِرِما کو ابتدائی ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ خلا میں پہنچنے سے پہلے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ تاہم اگر یہ 2033 میں لانچ ہو جاتی ہے تو ماہرین فلکیات بالآخر انفراریڈ کائنات کے ایک ایسے حصے کا مشاہدہ کر سکیں گے جسے جیمز ویب بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتی۔
